English | Español | 中文 | اللغة العربية | Français | हिन्दी | Português | اردو | Melayu | বাংলা

 جن کو بھجوایا : تمام قومی ، ریاستی اور شہری حکومتوں کے صدور،وزیراعظم، گورنر،وزرا   ءاعلٰی، میئرز، وزراء/سیکریٹریز، کمشنر برائے محنت وٹرانسپورٹ،منتخب نمائندگان اور سرکاری محکموں کے سربراہان


ہم ، زیرِدستخطی، پوری دنیا  کے ڈرائیور کارکن ہیں جو ایپ پر مبنی نقل و حمل کے سیکٹرکی کمپنیوں جیسا کہ اوبر ،  لائی فٹ، لگریب، اولا، گوئیجک، دیدی، بولٹ، کریم وغیرہ کو فعال کرنے اور چلانے  والے ہیں۔ہم تمام حکومتوں ۔۔قومی ،علاقائی،ریاستی،اور شہری۔۔ کو دی گئی پکار پر متحد ہیں کہ فی الفور  ایپ پر مبنی ٹیکسی خدمات کو لاگو کیا جائے خصوصا ڈرائیورز کو غیرفعال کرنے کے غیرمنصفانہ سوال پر۔ وہ تمام کمپنیاں جوایپ پر مبنی ٹیکسی میں کام کرتی ہیں، سیکٹر فائرڈرائیورکارکن،  نامعلوم وجوہات کی بنا پر، کم معیار، غیر آڈٹ شدہ،غلطی کا شکارآٹومیشن اور اکثر صارفین کی جانب سے غیر متعصبانہ شکایات کی وجہ سے بغیر مناسب عمل کے کام کررہے ہیں۔ غیر فعال ہونے کا خطرہ بالکل براہ ِراست  اور ہمارے وقار پر بلاروک ٹوک حملہ ہے کیونکہ ہمیں ایسے صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے جو سراسر غلط، متعصب اور پوری طرح اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوتے، اور کمپنی کے اہلکار یہ سمجھتے ہیں کہ ڈرائیورکارکنوں کو اپنی مرضی سے برطرف کرنا ان کے کام  اور ان کے کاروباری ماڈل کا حصہ ہے۔غیر منصفانہ طریقے سے غیر فعال ہونے کا خطرہ ہمارے سروں پر ہر وقت تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔
غربت کی سطح کی آمدنی کے ساتھ نوکری سے ہاتھ دھونے کا خطرہ جس کو خوش گویائی میں \"غیر فعال\" کہہ دیا جاتا ہے ، اس کو ایک تکنیکی وجہ دی اوریہی دنیا بھر کے ڈرائیورکارکنوں  کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ آج ہماری آوازاقوام اور شہروں،مذاہب اور زبانوں اور ہر جنس میں  یکجا اورمتحد ہے۔دنیا بھر میں کام کرنے والے برطرف ہونے سےقبل ہمیشہ  ایک منصفانہ عمل کا بنیادی حق رکھتے ہیں۔کسی رعایت کے ساتھ تقریبا ،  تمام کارکنوں کو  ٹی این سی/رائیڈ شیئرسے معاہدوں کے ذریعے علاج کی سہولت دی جاتی ہے  جوڈرائیور  کارکنوں کو برطرف کرنے کی بدنیتی کے ارادے، غلط درجہ بندی، کارکنوں کے بنیادی حقوق سے انکاراور انتہائی کم معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔ایک عالمی صنعت جیسا کہ ایپلی کیشن پر مبنی ٹرانسپورٹیشن انڈسٹری کوایسا سخت طرز ِعمل اپنانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ایسا کرنا ہر اس حکومت پر ایک دھبہ ہے جو اس صنعت کو چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہماری تشویشناک  حالت کو سمجھا جائے۔ہم میں سے بیشتر غربت کی سطح کی اُجرت پر کام کرتے ہیں بلکہ  ہم ہر روزغیریقینی صورتحال کا شکار ہوتے ہیں جو نہ صرف ہمارے لیے ناقابلِ برداشت ہے بلکہ درحقیقت ہمارے وقار پر حملہ ہے۔حال ہی میں بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد میں ایک ڈرائیور کو اس لیے نوکری سے برخاست کردیا گیا کیونکہ کمپنی کے چہرہ شناخت کرنے والےسافٹ ویئر میں خرابی پیدا ہوگئی۔  حالیہ وبائی مرض کے دوران خوراک کی کمی کے باعث  ڈرائیور کا وزن کم ہوگیا تھا  اور اس کی داڑھی بھی بڑھ گئی تھی۔سافٹ ویئر اس مسئلے پر کارروائی کرنے سے قاصر تھابلکہ سب سے بُری بات یہ تھی کہ کمپنی نے ان غلطیوں کو ٹھیک کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کردیا۔شائع شدہ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ چہرے کو شناخت کرنے والے سافٹ ویئر میں غیر کوکوشیئی چہروں کو شناخت کرنے میں ایک موروثی تعصب پایا جاتا ہے جس کو ختم کرنے کے لئے ایک غیر جانبدار عمل کی فوری  ضرورت ہے۔اسی طرح ایک افریقی امریکی ڈرائیورکارکن کا سامناایک سفید فام صارف سے ہواجس نےڈرائیور کارکن کی  ایک غیر مصدقہ اور نسل پرستانہ شکایت کی  اور کہاکہ ڈرائیورنے نشہ کررکھا تھا۔ڈرائیورکارکن اس شکایت کے سلسلے میں پولیس کے پاس جانے اور اپناالکحل کا ٹیسٹ کروانے کے لیے بھی تیا ر تھا لیکن صارف کے تعصب کو دیکھتے ہوئے ایسا نہیں کیا گیا۔
تاہم ان چیزوں کا حل ہمارے نزدیک بالکل واضح ہے: 
1۔ قومی حکومتوں کی جانب سے شہروں، ریاستوں، خطوں  میں واجب العمل/صرف اسباب کے طریقہ کار کو نافذکیا جائےکیونکہ ڈرائیور کارکنوں کو ریاستی حکام کے ذریعے لائسنس دیا جاتا ہے جس میں ڈرائیوں کے لئے سماعت کا عمل بھی شامل ہوتا ہے۔
2۔ جہاں ممکن ہو ،آجر اور کارکنوں کےقوانین کے تحت ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا جائے اور  جہاں ایسی درجہ بندیاں موجود نہیں ہیں وہاں ایک مستحکم قانون دستیاب ہو۔ 
3۔ کہ آپ کے ملک /ریاست/شہر میں ڈرائیور کارکنوں کے باہمی مشورے کے بعداس طرح کے ضابطے کو نافذ کیا جاسکے۔
آئی اے اے ٹی ڈبلیوڈرائیور کارکنوں کی آواز کی نمائندگی کرنے کے لیے پُرعزم ہےاور اس طرح کی قانون سازی/ضابطوں کو نافذ کرنے کے لئے دنیا کے کسی بھی حصہ میں کسی بھی حکومت کی مدد کےلیے تیار ہے۔


اس درخواست کودوسری زبانوں میں دیکھنے کے لیے ، نیچے کلک کیجئے: 
انگریزی، ہسپانوی، اردو، ہندی، چینی، ملائیشین، فرانسیسی،بنگالی،عربی، انڈونیشی،  پی جن    انگریزی(نائیجیریا)